درثمین مع فرہنگ — Page 99
اُس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بیس فیصلہ یہی ہے وہ دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تو خُدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے ہم تھے دلوں کے اندھے سو سو دلوں میں پھندے پھر کھولے جس نے بندے وہ محبتی یہی ہے اے میرے رب رحماں تیرے ہی ہیں یہ احساں مشکل ہو تجھ سے آساں ہر دم رکھا یہی ہے اے میرے یار جانی ! خود کر تو مہربانی ور نہ بلاتے دنیا اک اژدھا ہی ہے دل میں نہیں ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآن کے گرد گھوموں کعبہ مرا ہی ہے اے جندے سے مراد اس جگہ نفل ہے چونکہ اس جگہ کوئی شاعری دکھلانا منظور نہیں اور نہ میں یہ نام اپنے لئے پسند کرتا ہوں ۔ اس لئے بعض جگہ میں نے پنجابی الفاظ استعمال کئے ہیں ۔ اور ہمیں صرف اُردو سے کچھ غرض نہیں اصل مطلب امر حق کو دلوں میں ڈالنا ہے شاعری سے کچھ تعلق نہیں ہے ۔ منہ 99