درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 98

پہلوں سے خوب تر ہے خُوبی میں راک قمر ہے اُس پر ہر اک نظر ہے بدر الدجی ہی ہے پہلے تو رہ میں ہارے پار اُس نے ہیں اُتارے میں جاؤں اُس کے وارے بیس ناخدا یہی ہے پردے جو تھے ہٹاتے اندر کی رہ دکھاتے دل یار سے ملائے وہ آشنا یہی ہے 6 وہ یارِ لا مکانی ، وہ دلیر نہانی دیکھا ہے ہم نے اُس سے بس رہنما یہی ہے وہ آج شاہ دیں ہے ، وہ تاج مُرسلیں ہے، وه طيب واہیں ہے، اس کی ثنا یہی ہے حق سے جو جو حکم آتے اُس نے وہ کر دکھاتے جو راز تھے بتاتے نغم العطا نہیں ہے آنکھ اس کی دُور ہیں ہے، دل یار سے قریب ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الفیا یہی ہے جو راز دیں تھے بھارے اُس نے بتائے سارے دولت کا دینے والا فرماں روا یہی ہے 98