درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 94

بس اُسے میرے پیارو ! عقبیٰ کو مت بہارو اِس دیں کو پاؤ یارو بدر الدجی یہی ہے میں ہوں ستم رسیدہ اُن سے جو ہیں کہ میدہ شاہد ہے آب دیدہ واقف بڑا یہی ہے میں دل کی کیا سناؤں کس کو یہ غم بتاؤں دُکھ درد کے ہیں جھگڑے مجھ پر بلا یہی ہے دیں کے غموں نے مارا ، اب دل ہے پارہ پارہ دلبر کا ہے سہارا ، ورنہ فنا یہی ہے ہم مر چکے ہیں غم سے کیا پوچھتے ہو ہم سے اس یار کی نظر میں شرط وفا ہی ہے برباد جائیں گے ہم گر وہ نہ پائیں گے ہم رونے سے لائیں گے ہم دل میں رکھا یہی ہے وہ دن گئے کہ راتیں کٹتی تھیں کر کے باتیں اب موت کی ہیں گھاتیں غم کی کتھا یہی ہے جلد آ پیارے ساقی ! اب کچھ نہیں ہے باقی دے شربت تلاقی حرص و ہوا ہی ہے 94