درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 95

شکر خدائے رحمان ! جس نے دیا ہے قرآں غنچے تھے سارے پہلے اب گل کھلا ہی ہے کیا وصف اس کے کہنا ہر حرف اس کا کہنا دلبر بہت ہیں دیکھے دل لے گیا ہی ہے دیکھی ہیں سب کتابیں مجمل ہیں جیسی خواہیں خالی ہیں ان کی قاہیں خوان بدی یہی ہے اُس نے خدا ملایا وہ یار اس سے پایا راتیں تھیں جتنی گذریں، اب دن چڑھا ہی ہے اُس نے نشاں دکھاتے طالب سبھی بلائے سوتے ہوئے جگائے بس حق نما ہی ہے پہلے صحیفے سارے لوگوں نے جب پگاڑے دنیا سے وہ سدھارے نوشہ نیا ہی ہے کہتے ہیں حُسنِ یوسف دلکش بہت تھا ۔ لیکن - خوبی و دلبری میں سب سے سوا ہی ہے یوسف توسن چکے ہو اک چاہ میں گرا تھا یہ چاہ سے نکالے جس کی صدا یہی ہے 95