درثمین مع فرہنگ — Page 93
شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں اُن کی ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا یہی ہے ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ توانا اُس نے ہے کچھ دکھانا اس سے کہا ہی ہے ان سے دو چار ہونا عزت ہے اپنی کھونا ان سے ملاپ کرنا راہ دیا یہی ہے وتیں اور صفتیں روحوں اور ذرات اجسام میں ہیں وہ سب قدیم سے خود بخودہیں۔ پریشر سے وہ حاصل نہیں ہوئیں۔ پھر ہے ؟ ایسا پیشر کس کام کا ہے اور اس کے وجود کا ثبوت کیا ہے ؟ اور کیا وجہ کہ اس کو پیشہ کہا جائے اور کامل اطاعت کا وہ کیونکر ستی ہو سکتا ہے۔ جبکہ اس کی پرورش کامل نہیں اور جن طاقتوں کو اس نے آپ نہیں بنایا ان کا علم اس کو کیونکر اور جبکہ وہ ایک روح کے پیدا کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا تو کن معنوں سے اس کو سری شکتی مان کہا جاتا ہے جبکہ اس کی شکتی صرف جوڑنے تک ہی محدود ہے۔ میرا دل تو ہی گواہی دیتا ہے کہ یہ ناپاک علمی دید میں ہرگز نہیں ہیں۔ میر تو تھی پرپیش رہ سکتاہے جبکہ ہر اک فیض کا وہی مبدا ہو۔ بیدانت والوں نے بھی اگرچہ غلطیاں کیں مگر تھوڑی سی اصلاح سے ان کا مذہب قابل اعتراض نہیں رہتا ۔مگر دیانند کا مذہب تو سراسر گندہ معلوم ہوتا ہے کہ دیانند نے ان جھوٹے فلسفیوں اور منطقیوں کی پیروی کی ہے جن کو دید سے کچھ بھی تعلق نہ تھا بلکہ وید کے در پردہ نہ تھابلکہ وید در پکے دشمن تھے۔ اسی وجہ سے ان کے مذہب میں پریشر کی وہ تعظیم نہیں جو ہونی چاہیے۔ اور نہ پاک دل جوگیوں کی طرح پریشر سے ملنے کے لئے مجاہدات کی تعلیم ہے ۔ صرف تعصب اور خدا کے پاک نبیوں کو کینہ اور گالیاں دینا ہی یہ شخص بد نصیب اپنے چیلوں کو سکھا گیا ہے ۔ بلکہ یوں کہو کہ ایک زہر کا پیالہ پلا گیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارا سب اعتراض دیانند کے فرضی دیدوں پر ہے نہ خدا کی کسی کتاب پر ۔ واللہ اعلم۔ منہ 93