درثمین مع فرہنگ — Page 92
کہنے کو دید والے پر دل ہیں سب کے کالے پردہ اُٹھا کے دیکھو اُن میں بھرا یہی ہے فطرت کے ہیں درندے مردار ہیں نہ زندے ہر دم زباں کے گندے قہر خدا یہی ہے دین خدا کے آگے کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پر اُترے دل میں اُٹھا ہی ہے لے اگر ایسے لوگ بھی ان میں ہیں جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو گالیاں نہیں دیتے اور صلاحیت اور شرافت رکھتے ہیں وہ ہمارے بیان سے باہر ہیں منہ ے یادر ہے کہ ہماری رائے اُن آریہ سماج والوں کی نسبت ہے جنہوں نے اپنے اشتہاروں اور رسالوں اور اخباروں کے ذریعہ سے اپنی گندی طبیعت کا ثبوت دے دیا ہے اور ہزار ہا گالیاں خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو دی ہیں جن کی اختبار اور کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں ۔ مگر شریف طبع لوگ اس جگہ ہماری مراد نہیں ہیں اور نہ وہ ایسے طریق کو پسند کرتے ہیں مینہ بقیہ ملا سننے سے خاص کر جب کہ ویدوں کے حوالہ سے بیان کی جاتی ہیں کسی قدر نا پاک شہوات عورتوں کی جوش ماریں گی بلکہ وہ تو دس قدم اور بھی آگے بڑھیں گی اور جب کہ پردہ کائی بھی ٹوٹ گیا تو ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ان ناپاک شہوتوں کا سیلاب کہاں تک خانہ خرابی کرے گا ۔ چنانچہ جگن ناتھ اور بنارس اور کئی جگہ میں اس کے نمونے بھی موجود ہیں۔ کاش! اس قوم میں کوئی سمجھدار پیدا ہو ۔ اور ہمیں یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مکتی حاصل کرنے کے لئے اولاد کی ضرورت کیوں ہے ؟ کیا ایسے لوگ جیسے پنڈت دیانند تھا جس نے شادی نہیں کی اور نہ کوئی اولاد ہوئی مکتی سے محروم ہیں ؟ اور ایسی مکتی پر تو لعنت بھیجنا چاہیے کہ اپنی عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا کر اور لیا فعل اس سے کہا کہ جو عام دنیا کی نظر میں زنا کی صورت میں ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بجز اس ناپاک فعل کے اور کوئی ذریعہ اس کی مکتی کا نہیں اور یہ بھی ہم سمجھ نہیں سکتے کہ جو ہزاروں طاقتیں اور بقیہ اگلے صفحے پر 92