درثمین مع فرہنگ — Page 91
اُن کے تو دل کا رہبر اور مقتدا ہی ہے پھر کس طرح وہ مانیں تعلیم پاک فرقاں جب ہو گئے ہیں ملزم ، اُترے ہیں گالیوں پر ڑکتے نہیں ہیں ظالم گالی سے ایک دم بھی ہاتھوں میں جاہلوں کے سنگ جفا یہی ہے ان کا تو شغل و پیشہ صبح و مسا یہی ہے افسوس بلکہ ہزار افسوس کہ یہ وہ باتیں ہیں جو آریہ لوگ وید کی طرف منسوب کرتے ہیں مگر ہم نہیں کہ سکتے کہ در حقیقت ہی تعلیم دید کی ہے ممکن ہے ہندوؤں کے بعض جوگی جو مجرد رہتے ہیں اور اندر ہی اندر نفسانی جذبات ان کو مغلوب کر لیتے ہیں انہوں نے یہ باتیں خود بنا کر دید کی طرف منسوب کر دی ہوں یا تحریف کے طور پر وید میں شامل کر دی ہوں ۔ کیونکہ محق پنڈتوں نے لکھا ہے کہ ایک زمانہ دید پر وہ ھی آیا ہے کہ اس میں بڑی تعریف کی گئی ہے اور اس کے بہت سے پاک مسائل بدلائے گئے ہیں۔ گئے ہیں اور عقل قول نہیں کری کہ دیرنے ایسی تعلیم دی ہو اور نہ کوئی فطرت صحیحہ قبول کرتی ہے کہ ایک شخص اپنی پاک دامن ہوی کو بغیر اس کے کہ اس کو طلاق دے کر شرعی طور پر اس سے قطع تعلق کرے یونہی اولاد حاصل کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے اسکو دوسرے سے ہم بستر کرا دے کیونکہ یہ تو دیویوں کا کام ہے ۔ ہاں اگر کسی عورت نے طلاق حاصل کر لی ہو ۔ اور خاوند سے کوئی اس کا تعلق نہ رہا ہو تو اس صورت میں ایسی عورت کو جائز ہے کہ دوسرے سے نکاح کرنے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اس کی پاکدامنی پر کون حرف در هم بلند آواز نہ سے کہتے ہیں کہ نیوگ کا نتیجہ اچھا نہیں ہے ۔ جس صورت میں آریہ سماج کے لوگ ایک طرف تو عورتوں کے پردہ کے مخالف ہیں کہ مسلمانوں کی رسم ہے۔ پھر دوسری طرف جبکہ ہر روز نیوگ کا " پاک مسئلہ ان عورتوں کے کانوں تک پہنچتا رہتا ہے اور ان عورتوں کے دلوں میں جما ہوا ہے کہ ہم دوسرے مردوں سے بھی ہم بستر ہو سکتی ہیں تو ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ ایسی باتوں کے بقیہ اگلے صفحے پر 91