درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 86

جاں بھی ہے ان پہ قرباں گر دل سے ہوویں صافی پس ایسے برکتوں کا مجھ کو گلا ہی ہے احوال کیا کہوں میں اس غم سے اپنے دل کا گویا کہ ان غموں کا مہمان سہرا یہی ہے لیتے ہی جنم اپنا دشمن ہوا یہ فرقہ آخر کی کیا اُمیدیں جب ابتدا یہی ہے دل پھٹ گیا ہمارا تحقیر سُنتے سنتے غم تو بہت ہیں دل ہیں ۔ پر جاں گڑا یہی ہے دنیا میں گرچہ ہو گی سو قسم کی برائی پاکوں کی ہتک کرنا ۔ سب سے بڑا یہی ہے غفلت پر غافلوں کی روتے رہے ہیں مرسل پر اس زماں میں لوگو ! توجہ نیا ہی ہے ہم یہ نہیں ہیں کہتے اُن کے مقدسوں کو تعلیم میں ہماری حکیم خُدا ہی ہے ہم کو نہیں سکھاتا وہ پاک بکہ زبانی تقوی کی جڑ یہی ہے صدق وصفا ہی ہے 86