درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 85

آخر یہ آدمی تھے پھر کیوں ہوئے درندے کیا جون ان کی بگڑی یا خود قضا نہیں ہے جس آریہ کو دیکھیں تہذیب سے ہے عاری کیس کیس کا نام لیویں ہر سُو وبا ہی ہے لیکھو کی بد زبانی کا رد ہوئی تھی اس پر پھر بھی نہیں سمجھتے حمق و خطا یہی ہے اپنے کئے کا ثمرہ لیکھو نے کیسا پایا آخر خُدا کے گھر میں ید کی سزا نہیں ہے نبیوں کی ہتک کرنا اور گالیاں بھی دینا کتوں ساکھولنا منہ تخم فنا ہی ہے میٹھے بھی ہو کے آخر نشتر ہی ہیں چلاتے ان تیرہ باطنوں کے دل میں دعا یہی ہے جاں بھی اگر چہ دیویں ان کو بطور احساں ہندو کچھ ایسے بگڑے دل پر ہیں بغض وکیں سے عادت ہے ان کی گھراں ، رنج وغنا ہی ہے ہر بات میں ہے تو ہیں طرز ادا یہی ہے 85