دُرِّثمین اُردو — Page 85
۸۵ جس استری کو لڑکا پیدا نہ ہو پیا سے ویدوں کی رُو سے اُس پر واجب ہوا یہی ہے جب ہے یہی اشارہ پھر اس سے کیا ہے چارہ جب تک نہ ہوویں گیارہ لڑکے روا یہی ہے ایشر کے گن عجب ہیں ویدوں میں اے عزیزو! اس میں نہیں مروت ہم نے سُنا یہی ہے دے کر نجات وٹکتی پھر چھینتا ہے سب سے کیسا ہے وہ دیائو جس کی عطا یہی ہے ایشر بنا ہے مُنہ سے خالق نہیں کسی کا روحیں ہیں سب انادی پھر کیوں خدا یہی ہے روحیں اگر نہ ہوتیں ایشر سے کچھ نہ بنتا اس کی حکومتوں کی ساری بنا یہی ہے اُن کا ہی منہ ہے تکتا ہر کام میں جو چاہے گویا وہ بادشہ ہیں اُن کا گدا یہی ہے القصہ آریوں کے ویدوں کا یہ خدا ہے اُن کا ہے جس پہ تکیہ وہ بے نوا یہی ہے لے عورت خاوند