دُرِّثمین اُردو — Page 86
۸۶ اے آریو! کہو اب ایشر کے ہیں یہی گن جس پر ہو ناز کرتے بولو وہ کیا یہی ہے ویدوں کو شرم کر کے تم نے بہت چُھپایا آخر کو راز بستہ اُس کا کھلا یہی ہے قدرت نہیں ہے جس میں وہ خاک کا ہے ایشر کیا دین حق کے آگے زور آزما یہی ہے کچھ کم نہیں بتوں سے یہ ہندوؤں کا ایشر سچ پوچھئے تو واللہ بہت دوسرا یہی ہے ہم نے نہیں بنائیں یہ اپنے دل سے باتیں ویدوں سے اے عزیز و ہم کو ملا یہی ہے فطرت ہر اک بشر کی کرتی ہے اس سے نفرت پھر آریوں کے دل میں کیونکر بسا یہی ہے یہ حکم وید کے ہیں جن کا ہے یہ نمونہ ویدوں سے آریوں کو حاصل ہوا یہی ہے خوش خوش عمل ہیں کرتے اوباش سارے اس پر سارے نیوگیوں کا اک آسرا یہی ہے لے یادر ہے کہ وید کی تعلی سے مراد ہماری اس جگہ وہ عظیمیں اور وہ اصول ہیں جن کو آر یہ لوگ اس جگہ ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نیوگ کی تعلیم وید میں موجود ہے۔ اور بقول اُنکے وید بلند آواز سے کہتا ہے کہ جس کے گھر میں کوئی اولاد نہ ہو یا صرف لڑکیاں ہوں تو اس کیلئے یہ ضروری امر ہے کہ وہ اپنی