دُرِّثمین اُردو — Page 75
۷۵ خوبوں کے حُسن میں بھی اُسی کا وہ نور ہے کیا چیز حُسن ہے وہی چپ کا حجاب میں اس کی طرف ہے ہاتھ ہر اک تار زلف کا ہجراں سے اسکے رہتی ہے وہ پیچ و تاب میں هر چشم مست دیکھو اسی کو دکھاتی ہے ہر دل اسی کے عشق سے ہے التہاب میں جن مو رکھوں کو کاموں پر اسکے یقیں نہیں پانی کو ڈھونڈتے ہیں عبث وہ سراب میں قدرت سے اُس قدیر کی انکار کرتے ہیں ! بکتے ہیں جیسے غرق ہو کوئی شراب میں دل میں نہیں کہ دیکھیں وہ اُس پاک ذات کو ڈرتے ہیں قوم سے کہ نہ پکڑیں عتاب میں ہم کو تو اے عزیز دکھا اپنا وہ جمال کب تک وہ منہ رہیگا حجاب و نقاب میں 000 سناتن دھرم ٹائیٹل پیج - صفحه ۲ مطبوعہ ۱۹۰۳ء