دُرِّثمین اُردو — Page 74
۷۴ آریوں کو دعوت حق اے آریہ سماج پھنسومت عذاب میں کیوں مبتلا ہو یارو خیال خراب میں اے قوم آریہ تیرے دل کو یہ کیا ہوا تو جاگتی ہے یا تری باتیں ہیں خواب میں کیا وہ خدا جو ہے تری جان کا خدا نہیں ایماں کی بو نہیں ترے ایسے جواب میں گر عاشقوں کی روح نہیں اُس کے ہاتھ سے پھر غیر کیلئے ہیں وہ کیوں اِضطراب میں گر وہ الگ ہے ایسا کہ چھو بھی نہیں گیا پھر کس نے لکھ دیا ہے وہ دل کی کتاب میں جس سوز میں ہیں اُس کیلئے عاشقوں کے دل اتنا تو ہم نے سوز نہ دیکھا کباب میں جام وصال دیتا ہے اُس کو جو مر چکا کچھ بھی نہیں ہے فرق یہاں شیخ و شاب میں ملتا ہے وہ اُسی کو جو ہو خاک میں ملا ! ظاہر کی قیل و قال بھلا کس حساب میں ہوتا ہے وہ اُسی کا جو اُس کا ہی ہو گیا ہے اسکی گود میں جو گرا اس جناب میں پھولوں کو جا کے دیکھو اسی سے وہ آب ہے چمکے اُسی کا نور مہ م و آفتاب میں لى اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ خدا ہے نور زمین و آسمان کا ( آیت قرآن شریف )