دُرِّثمین اُردو — Page 65
۶۵ وہ آیا منتظر تھے جس کے دن رات معمہ کھل گیا روشن ہوئی بات دکھا ئیں آسماں نے ساری آیات زمیں نے وقت کی دیدیں شہادات پھر اس کے بعد کون آئیگا ہیہات خدا سے کچھ ڈرو چھوڑو معادات خدا نے اک جہاں کو یہ سنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي مسیح وقت اب دنیا میں آیا خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا وہی کے اُن کو ساقی نے پلا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي خدا کا ہم پہ بس لطف و کرم ہے وہ نعمت کون سی باقی جو کم ہے زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق ظهور عون و نصرت د میدم ہے سے ارضِ حرم ہے حسد سے دشمنوں کی پشت خم ہے سنو اب وقت توحید اتم ہے رستم اب مائلِ ملک عدم ہے خدا نے روک ظلمت کی اُٹھا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي 000 مجموعه آمین - مطبوعه ۲۷ نومبر ۱۹۰۱ء