دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 63

۶۳ محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے جو جلتا ہے وہی مُردے جلاوے جو مرتا ہے وہی زندوں میں جاوے ثمر ہے دور کا کب غیر کھاوے چلو اوپر کو وہ نیچے نہ آوے نہاں اندر نہاں ہے کون لاوے غریقِ عشق وہ موتی اُٹھاوے وہ دیکھے نیستی رحمت دکھاوے خودی اور خود روی کب اُسکو بھاوے مجھے تو نے یہ دولت اے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي کہاں تک حرص و شوق مال فانی! اُٹھو ڈھونڈو متاع آسمانی کہاں تک جوش آمال و آمانی یہ سو سو چھید ہیں تم میں نہانی تو پھر کیونکر ملے وہ یار جانی کہاں غربال میں رہتا ہے پانی کرو کچھ فکر ملک جاودانی یہ ملک و مال چھوٹی ہے کہانی بسر کرتے ہو غفلت میں جوانی مگر دل میں یہی تم نے ہے ٹھانی