دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 62

۶۲ کہیں جو کچھ کہیں سر پر خدا ہے پھر آخر ایک دن روز جزا ہے بدی کا پھل بدی اور نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي مجھے سب زور و قدرت ہے خُدایا تجھے پایا ہر اک مطلب کو پایا یہ دلبر سمایا ہر اک عاشق نے ہے اِک بُت بنایا ہمارے دل میں و ہی آرامِ جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رب البرایا ہوا ظاہر وہ مجھ پر بالا یــادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي مجھے اُس یار سے پیوندِ جاں ہے وہی جنت، وہی دارالاماں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احسان ہیں ترے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي تری نعمت کی کچھ قلت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے مجھے آب شکر کی طاقت نہیں ہے یہ کیا احسان ہیں ترے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي ترے کوچے میں رکن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خُودی جس سے جلاؤں