دُرِّثمین اُردو — Page 61
٦١ میری خاطر دکھائیں تو نے آیات ترحم سے مری سُن لی ہر اک بات کرم سے تیرے دشمن ہو گئے مات عطا کیں تو نے سب میری مرادات پڑا پیچھے جو میرے غول بدذات پڑی آخر خود اس موذی پر آفات ہوا انجام سب کا نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي بنائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تو نے احساں اپنے دن رات ہر اک میداں میں دیں تو نے فتوحات بد اندیشوں کو تو نے کر دیا مات ہر اک پگڑی ہوئی تو نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي تری نصرت سے اب دشمن کے تنبہ ہے ہر اک جا میں ہماری تو پینہ ہے ہر اک بد خواہ اب کیوں روسیہ ہے کہ وہ مثل خسوف مہرومہ ہے سیاہی چاند کی منہ نے دکھا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي ترے فضلوں سے جاں بُتاں سرا ہے ترے نوروں سے دل شمس الضحیٰ ہے اگر اندھوں کو انکار و ابا ہے وہ کیا جانیں کہ اِس سینہ میں کیا ہے ے دشمن کے لفظ سے اس جگہ وہ حاسہ وہ حاسد مراد ہیں جو ہر ایک طور سے مجھے تکلیف پہنچانا چاہتے۔ باہتے ہیں ۔ لوگوں کو میری نسبت بدظن کرتے ہیں اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی میں بھی جھوٹی شکائیتیں کرتے رہتے ہیں اور گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جو میرے مخلصانہ خیالات ہیں ان کو چھپاتے ہیں ۔ منہ