دُرِّثمین اُردو — Page 60
۶۰ مجھے کب خواب میں بھی تھی یہ اُمید کہ ہو گا میرے پر یہ فضل جاوید ملی یوسف کی عزت لیک بے قید نہ ہو تیرے کرم سے کوئی نومید مراد آئی ، گئی سب نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي تری رحمت عجب ہے اے مرے یار تیرے فضلوں سے میرا گھر ہے گلزار غریقوں کو کرے اک دم میں تو پار وہ ہو آوارہ جو ہو نومید تجھ ہر دشت و سے، ہے وہ مُردار وادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي ہوئے ہم تیرے اے قادر توانا ترے در کے ہوئے اور تجھ کو جانا ہمیں ہر دم بچانا ہمیں بس ہے تری درگہ پر آنا مصیبت سے کہ تیرا نام ہے غفار و بادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي تجھے دنیا میں ہے کس نے پکارا کہ پھر خالی گیا قسمت کا مارا تو پھر ہے کس قدر اس کو سہارا کہ جس کا تو ہی ہے سب سے پیارا ہوا میں تیرے فضلوں کا منادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي میں کیونکر گن سکوں تیری عنایات ترے فضلوں سے پر ہیں میرے دن رات