دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 59

۵۹ تیرے احساں مرے سر پر ہیں بھارے چمکتے ہیں وہ سب جیسے ستارے گڑھے میں تو نے سب دشمن اُتارے ہمارے کر دیئے اونچے منارے مقابل میں مرے یہ لوگ ہارے کہاں مرتے تھے پر تو نے ہی مارے شریروں پر پڑے اُن کے شرارے نہ اُن سے رُک سکے مقصد ہمارے اُنہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تیری رحمت ہے، میرے گھر کا شہتیر مری جاں تیرے فضلوں کی پنہ گیر حریفوں کو لگے ہر سمت سے تیر گرفتار آ گئے جیسے کہ نخچیر ہوا آخر وہی جو تیری تقدیر بھلا چلتی ہے تیرے آگے تدبیر خدا نے اُن کی عظمت سب اُڑا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي مجھے ہر قسم سے اُس نے عطا دی مری اُس نے ہر اِک عزّت بنا دی مخالف کی ہر اک شیخی مٹا دی سعادت دی، ارادت دی، وفا دی ہر اک آزار سے مجھ کو شفا دی مرض گھٹتا گیا جوں جوں دوا دی محبت غیر کی دل خدا جانے کہ کیا دل کو سُنا دی سے ہٹا دی دوا دی اور غذا دی اور قبا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي