دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 58

۵۸ جو ہو گا ایک دن محبوب میرا بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا کروں گا دُور اُس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اِک عالم کو پھیرا بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي میری ہر بات کو تو نے جلا دی میری ہر روک بھی تو نے اُٹھا دی مری ہر پیش گوئی خود بنا دی تری نَسُلًا بَعِيدًا بھی دکھادی جو دی ہے مجھ کو وہ کس کو عطا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں ہوئے بدنام ہم اس سے جہاں میں ملاحت ہے عجب اس دلستاں میں عد و جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں ہوا مجھ پر وہ ظاہر میرا ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي رہ میں عمر ساری کروں کیونکر ادا میں شکر باری فدا ہو اُس کی مرے سر پر ہے مِنت اس کی بھاری چلی اس ہاتھ سے کشتی ہماری مری بگڑی ہوئی اُس نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تجھے حمد وثنا زیبا ہے پیارے کہ تو نے کام سب میرے سنوارے