دُرِّثمین اُردو — Page 43
۴۳ اے میری جاں کے جانی اے شاہ دو جہانی کر ایسی مہربانی ان کا نہ ہووے ثانی دے بخت جاودانی اور فیض آسمانی یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي سن میرے پیارے باری میری دعا ئیں ساری رحمت سے ان کو رکھنا میں تیرے منہ کے واری اپنی پنہ میں رکھیوسُن کر یہ میری زاری یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اے واحد و یگانہ اے خالق زمانہ میری دعا ئیں سن لے اور عرض چاکرانہ تیرے سپرد تینوں دیں کے قمر بنانا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي فکروں میں دل حزیں ہے جاں درد سے قریب ہے جو صبر کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے ہر غم سے دُور رکھنا تو رب عالمیں ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اقبال کو بڑھانا اب فضل لے کے آنا ہر رنج سے بچانا دُکھ درد سے چھڑانا خود میرے کام کرنا یا رب نہ آزمانا! یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي یہ تینوں تیرے چاکر ہوویں جہاں کے رہبر یہ ہادی جہاں ہوں یہ ہوویں نور یکسر یہ مرجع شہاں ہوں یہ ہوویں مہر انور یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي