دُرِّثمین اُردو — Page 25
۲۵ پھر آخر کو مارا صداقت نے جوش تعشق سے جاتے رہے اُس کے ہوش ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلائے رنگ کہا یہ تو مجھ سے ہوا اک گناہ کہ پوشیدہ رکھی سچائی کی راہ یہ صدق و صفا سے بہت دور تھا کہ غیروں کے خوفوں سے دل چور تھا تصور سے اس بات کے ہو کے زار کہا رو کے اے میرے پروردگار ! ترے نام کا مجھ کو اقرار ہے ترا نام غفار ستار ہے بلا ریب تو تی و قدوس ہے ترے دن ہر اک راہ سالوس ہے مجھے بخش اے خالق العالمین ! تو سبوح وَإِنِّي مِنَ الظَّالِمِينَ و میں تیرا ہوں اے میرے کرتار پاک ! نہیں تیری راہوں میں خوف ہلاک تیرے در پہ جاں میری قربان ہے محبت تری خود مری جان ہے وہ طاقت کہ ملتی ہے ابرار کو وہ دے مجھ کو دکھلا کے اسرار کو خطاوار ہوں مجھ کو وہ رہ بتا کہ حاصل ہو جس رہ سے تیری رضا اسی عجز میں تھا تذلیل کے ساتھ کہ پکڑا خدا کی عنایت نے ہاتھ ہوا غیب سے ایک چولہ عیاں خدا کا کلام اس پہ تھا بے گماں شہادت تھی اسلام کی جابجا کہ سچا وہی دیں ہے اور رہنما یہ لکھا تھا اُس میں بخطِ جلی کہ اللہ ہے اک اور محمد نبی