دُرِّثمین اُردو — Page 26
۲۶ ہوا حکم پہن اس کو اے نیک مرد! اتر جائیگی اس سے وہ ساری گرد ہو به خدا جو پوشیدہ رکھنے کی تھی اِک خطا یہ کفارہ اُس کا ہے اے باوفا ! یہ ممکن ہے کشفی ہو یہ ماجرا دکھایا گیا حکم پھر اُس طرز پر یہ بنایا گیا بحکم خدا پھر لکھایا گیا مگر یہ بھی ممکن ہے اے پختہ کار کہ خود غیب سے ہو یہ سب کاروبار کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں کہ عقلیں وہاں پیچ و بے کار ہیں تو یک قطره داری ز عقل و خرد مگر قدرتش بحر بے حد و عد اگر پشتوی قصه صادقاں مجتبال سر خود چو مستہزیاں دیده تو خود را خردمند فهمیده مقامات مرداں گجا غرض اُس نے پہنا وہ فرخ لباس نہ رکھتا تھا مخلوق سے کچھ ہراس وہ پھرتا تھا گو چوں میں چولہ کے ساتھ دکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ کوئی دیکھتا جب اُسے دُور سے تو ملتی خبر اُس کو اُس نور سے جسے دور سے وہ نظر آتا تھا اُسے چولہ خود بھید سمجھاتا تھا وہ ہر لحظہ چولے کو دکھلاتا تھا اسی میں وہ ساری خوشی پاتا تھا غرض یہ تھی تا یار خورسند ہو خطا دور ہو پختہ پیوند ہو جو عشاق اُس ذات کے ہوتے ہیں وہ ایسے ہی ڈر ڈر کے جاں کھوتے ہیں