دُرِّثمین اُردو — Page 24
۲۴ طلب میں چلا بے خود و بے حواس خدا کی عنایات کی کر کے آس جو پوچھا کسی نے چلے ہو کدھر؟ غرض کیا ہے جس سے کیا یہ سفر؟ ره کہا رو کے حق کا طلب گار ہوں شار پاک کرتار ہوں سفر میں وہ رو رو کے کرتا دعا کہ اے میرے کرتار مشکل گشا ! ہوں میں عاجز ہوں کچھ ہوں کچھ بھی نہیں خاک ہوں مگر بنده درگیر پاک میں قرباں ہوں دل سے تیری راہ کا نشاں دے مجھے مرد آگاہ کا نشاں تیرا پا کر وہیں جاؤں گا جو تیرا ہو وہ اپنا ٹھہراؤں گا کرم کر کے وہ راہ اپنی بتا کہ جس میں ہواے میرے تیری رضا بتایا گیا اُس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں مگر مرد عارف فلاں مرد ہے وہ اسلام کے راہ میں فرد ہے ملا تب خدا سے اسے ایک پیر کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر وہ بیعت سے اس کے ہوا فیضیاب سنا شیخ سے پھر آیا وطن کی طرف اُس کے بعد ملی پیر کے فیض سے بخت سعد ذکر راه صواب کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زبان چپ تھی اور سینہ میں نور تھا نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز