دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 150

۱۵۰ کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار آسمان پر دعوت حق کے لئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ وار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش آلُوِ دَاع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں نثار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے بادِ صبا گلزار زار سے مستانہ وار آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اُس کا انتظار ہر طرف ہر ملک میں ہے بُت پرستی کا زوال کچھ نہیں انسان پرستی کو کوئی عز و وقار آسماں سے ہے چلی توحید خالق کی ہوا دل ہمار ساتھ ہیں گومنہ کریں بک بک ہزار اسْمَعُوا صَوْتَ السَّمَاءِ جَاءَ الْمَسِيحِ جَاءَ الْمَسِيحِ نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار آسمان بارد نشان الوقت می گوید زمین این دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بیقرار اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے وقت ہے جلد آؤ اے آوارگان دشت خار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار اے مکذب کوئی اس تکذیب کا ہے انتہا کب تلک تو خوئے شیطاں کو کرے گا اختیار ملت احمد کی مالک نے ڈالی تھی بنا آج پوری ہو رہی ہے اے عزیزان دیار