دُرِّثمین اُردو — Page 151
۱۵۱ گلشنِ احمد بنا ہے مسکن باد صبا جس کی تحریکوں سے سنتا۔ ہے۔ سے سنتا ہے بشر گفتار یار در نہ وہ ملت وہ آہ وہ رسم وہ دیں چیز کیا سایہ افگن جس پہ نور حق نہیں خورشیدوار دیکھ کر لوگوں کے کینے دل مرا خوں ہو گیا قصد کرتے ہیں کہ ہو پامال دُرِ شاہوار ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں اک بلندی کی طرف وہ بلاتے ہیں کہ ہو جائیں نہاں ہم زیر غار نورِ دل جاتا رہا اک رسم دیں کی رہ گئی پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مصلح دیں کیا بکار راگ وہ گاتے ہیں جس کو آسماں گا تا نہیں وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں برخلاف شہریار ہائے مار آستیں وہ بن گئے دیں کے لئے وہ تو فربہ ہو گئے پر دیں ہوا زار و نزار ان غموں سے دوست دوستوئم ہو گئی میری کمر میں تو مر ۔ تو مر جاتا اگر ہوتا نہ نه فضل کردگار اس تپش کو میری وہ جانے کہ رکھتا ہے تپش اس الم کو میرے وہ سمجھے کہ ہے وہ دلفگار کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا مہرومہ کی آنکھ غم سے ہو گئی تاریک و تار مُفتری کہتے ہوئے اُن کو حیا آتی نہیں کیسے عالم ہیں کہ اس عالم سے ہیں یہ برکنار غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اُس کے ہوئے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسی کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار دشمنو! ہم اس کی رہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار