دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 149

۱۴۹ آنکھ گر پھوٹی تو کیا کانوں میں بھی کچھ پڑ گیا کیا خدا دھوکے میں ہے اور تم ہو میرے از دار جس کے دعوی کی سراسر افترا پر ہے بنا اس کی یہ تائید ہو پھر جھوٹ سچ میں کیا نکھار کیا خدا بھولا رہا تم کو حقیقت مل گئی کیا رہا وہ بے خبر اور تم نے دیکھا حالِ زار بدگمانی نے تمہیں مجنون و اندھا کر دیا ورنہ تھے میری صداقت پر براہیں بیشمار جہل کی تاریکیاں اور سُوء ظن کی سند باد جب اکٹھے ہوں تو پھر ایماں اُڑے جیسے غبار زہر کے پینے سے کیا انجام جز موت و فنا بدگمانی زہر ہے اس سے بچو اے دیں شعار کانٹے اپنی راہ میں بوتے ہیں ایسے بدگماں جن کی عادت میں نہیں شرم و شکیب و اصطبار یہ غلط کاری بشر کی بدنصیبی کی ہے جڑ پر مقدر کو بدل دینا ہے کس کے اختیار سخت جاں ہیں ہم کسی کے بغض کی پروا نہیں دل قوی رکھتے ہیں ہم دردوں کی ہے ہم کو سہار جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال آے روبہ زار و نزار ہے سر رہ پر مرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم پس نہ بیٹھو میری رہ میں آے شریران دیار سنت اللہ ہے کہ وہ خود فرق کو دکھلائے ہے تا عیاں ہو کون پاک اور کون ہے مردار خوار مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے اک میرا معین تیغ کو کھینچے ہوئے اُس پر جو کرتا ہے وہ وار دشمن غافل اگر دیکھے وہ باز و وہ سلاح ہوش ہو جا ئیں خطا اور بھول جائے سب نقار اس جہاں کا کیا کوئی داؤر نہیں اور دادگر پھر شریر النفس ظالم کو کہاں جائے فرار