دُرِّثمین اُردو — Page 146
۱۴۶ میرے جیسے کو جہاں میں تو نے روشن کر دیا کون جانے اے مرے مالک ترے بھیدوں کی سار تیرے اے میرے مربی کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار ابتدا سے گوشتہ خلوت رہا مجھ کو پسند شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی سب برگ و بار اس میں میرا جرم کیا جب مجھ کو یہ فرماں ملا کون ہوں تا رڈ کروں حکمِ شہ ذی الاقتدار اب تو جو فرماں ملا اس کا ادا کرنا ہے کام گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتوان و دلفگار دعوت ہر ہر زہ گو کچھ خدمت آساں نہیں ہر قدم میں کوہ ماراں ہرگزر میں دشت خار چرخ تک پہنچے ہیں میرے نعرہ ہائے روز و شب پر نہیں پہنچی دلوں تک جاہلوں کے یہ پکار قبضہ تقدیر میں دل ہیں اگر چاہے خدا پھیر دے میری طرف آجائیں پھر بے اختیار گر کرے معجز نمائی ایک دم میں نرم ہو وہ دل سنگیں جو ہووے مثلِ سنگِ کو ہسار ہاے میری قوم نے تکذیب کر کے کیا لیا زلزلوں سے ہو گئے صدہا مساکن مثلِ غار شرط تقوی تھی کہ وہ کرتے نظر ا سوقت پر شرط یہ بھی تھی کہ کرتے صبر کچھ دن اور قرار کیا وہ سارے مرحلے طے کر چکے تھے علم کے کیا نہ تھی آنکھوں کے آگے کوئی رہ تاریک و تار دل میں جو ارماں تھے وہ دل میں ہمارے رہ گئے دشمن جاں بن گئے جن پر نظر تھی بار بار ایسے کچھ بگڑے کہ اب بننا نظر آتا نہیں آہ کیا سمجھے تھے ہم اور کیا ہوا ہے آشکار کس کے آگے ہم کہیں اس درددل کا ماجرا اُن کو ہے ملنے سے نفرت بات سننا در کنار