دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 145

اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ مجھ سا کوئی کرتا ہو پیار ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یار غمگسار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار آسماں میرے لئے تو نے بنایا اِک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار ہو گئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کا خاکہ اُڑ گیا مثل غبار سرزمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی جیسے ہو وے برق کا اک دم میں ہر جا انتشار پھر دوبارہ ہے اُتارا تو نے آدم کو یہاں تا وه نخل راستی اِس ملک میں لاوے ثمار لوگ سو بک بک کریں پر تیرے مقصد اور ہیں تیری باتوں کے فرشتے بھی نہیں ہیں رازدار ہاتھ میں تیرے ہے ہر خسران و نفع و عسر ویٹر تو ہی کرتا ہے کسی کو بے نوا یا بختیار جس کو چاہے تخت شاہی پر بٹھا دیتا ہے تو جس کو چاہے تخت سے نیچے گرادے کر کے خوار میں بھی ہوں تیرے نشانوں جہاں میں اک نشان جس کو تو نے کر دیا ہے قوم و دیں کا افتخار فانیوں کی جاہ و حشمت پر بلا آوے ہزار سلطنت تیری ہے جو ر ، جو رہتی ہے دائم برقرار زت و ذلت یہ تیرے حکم پر موقوف ہیں تیرے فرماں سے خزاں آتی ہے اور بادِ بہار الده