دُرِّثمین اُردو — Page 144
۱۴۴ مناجات اور تبلیغ حق اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے حسن مرے پر ور دگار کس طرح تیرا کروں اے ذوالمکن شکر وسپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب و جوار کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ور نہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار دوستی کا دم جو بھرتے تھے سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے مرے حاجت برار اے مرے یاریگا نہ اے مری جاں کی پنہ بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار