دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 147

۱۴۷ کیا کروں کیونکر کروں میں اپنی جاں زیروز بر کس طرح میری طرف دیکھیں جو رکھتے ہیں نقار اس قدر ظاہر ہوئے ہیں فضل حق سے معجزات دیکھنے سے جن کے شیطاں بھی ہوا ہے دلفگار پر نہیں اکثر مخالف لوگوں کو شرم و حیا دیکھ کر سو سو نشاں پھر بھی ہے تو ہیں کاروبار صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کر دگار دن چڑھا ہے دُشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بے قرار اے مرے پیارے فدا ہو تجھ پہ ہر ذرہ مرا پھیر دے میری طرف اے ساریاں جگ کی مہار کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں کہیں کا شور ہے خاک میں ہو گا یہ سرگر تو نہ آیا بن کے یار فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کر میری مدد کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار میرے سقم و عیب سے اب کیجئے قطع نظر تا نہ خوش ہو دشمنِ دیں جس پہ ہے لعنت کی مار میرے زخموں پر لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں میری فریادوں کوسن میں ہو گیا زار و نزار دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعفِ دین مصطفیٰ مجھ کو کراے میرے سُلطاں کامیاب و کامگار کیا سلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مراد یہ تو تیرے پر نہیں اُمید اے میرے حصار یا الہی فضل کر اسلام پر اور خود بچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سُن لے پکار قوم میں فسق و فجور و معصیت کا زور ہے چھا رہا ہے ابر یاس اور رات ہے تاریک و تار ایک عالم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اب میرے مولی اس طرف دریا کی دھار اب نہیں ہیں ہوش اپنے ان مصائب میں بجا رحم کر بندوں پہ اپنے تا وہ ہوویں رستگار