دُرِّثمین اُردو — Page 134
۱۳۴ کچھ ایسا فضل حضرت رب الوریٰ ہوا سب دشمنوں کے دیکھ کے اوساں ہوئے خطا اک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا اُسی نے ثریا بنا دیا میں تھا غریب و بیکس و گم نام بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا پر پھر بھی جن کی آنکھ تعصب سے بند ہے اُن کی نظر میں حال مرا ناپسند ہے میں مفتری ہوں اُن کی نگاہ و خیال میں دنیا کی خیر ہے میری موت و زوال میں لعنت ہے مُفتری پہ خدا کی کتاب میں عزت نہیں ہے ذرہ بھی اُس کی جناب میں