دُرِّثمین اُردو — Page 133
۱۳۳ تھے چاہتے کہ مجھ کو دکھا ئیں عدم کی راہ یا حاکموں سے پھانسی دلا کر کریں تباہ یا کم سے کم یہ ہو کہ میں زنداں میں جا پڑوں یا یہ کہ ذلتوں سے میں ہو جاؤں سرنگوں یا مخبری سے ان کی کوئی اور ہی بلا آ جائے مجھ یہ یا کوئی مقبول ہو دعا پس ایسے ہی ارادوں سے کر کے مقدمات چاہا گیا کہ دن مرا ہو جائے مجھ پہ رات کوشش بھی وہ ہوئی کہ جہاں میں نہ ہو کبھی پھر اتفاق وہ کہ زماں میں نہ ہو کبھی مجھ کو ہلاک کرنے کو سب ایک ہو گئے سمجھا گیا میں بد پہ وہ سب نیک ہو گئے آخر کو وہ خدا جو کریم و قدیر ہے جو عالم القلوب و علیم و خبیر ہے انزا مری مدد کے لئے کر کے عہد یاد پس رہ گئے وہ سارے سیہ روی و نامراد