دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 106

١٠٦ اتمام محبت نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائے گا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہے یہ کیا عادت ہے کیوں سچی گواہی کو چُھپاتا ہے تیری اک روز اے گستاخ ! شامت آنے والی ہے ترے مکروں سے آے جاہل! مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑکر سلامت آنے والی ہے اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کی ہیں تونے اور چھپا یا حق مگر یہ یاد رکھ اِک دن ندامت آنے والی ہے خدا رسوا کرے گا تم کو میں اعزاز پاؤں گا سنو اے منکرو! اب یہ کرامت آنے والی ہے