دُرِّثمین اُردو — Page 105
۱۰۵ اللہ تعالیٰ کو خاکساری پسند ہے الہی بخش کے کیسے تھے یہ تیر کہ آخر ہو گیا ا اُن اُن کا کا وہ نیچے اسی پر اس کی لعنت کی پڑی مار کوئی ہم کو تو سمجھاوے سمجھاوے یہ اسرار تکبر سے نہیں ملتا وہ دلدار ملے جو خاک سے اُس کو ملے یار کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے پسند آتی ہے اُس کو خاکساری تذلل درگاه باری عجب ناداں ہے وہ مغرور و گمراہ کہ اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ س کو چھوڑا ہے بے راہ ہر دم نظر ہے بدی پر غیر کی مگر اپنی بدی سے ہے ره بے خبر ہے 000 تتمہ حقیقة الوحی صفحه ۱۱۵ مطبوعہ ۱۹۰۷ء