دُرِّثمین اُردو — Page 100
۱۰۰ آریوں سے خطاب عزیزو! دوستو! بھائیو! سُنو بات خدا بخشے تمہیں عالی خیالات ہمیں کچھ کہیں نہیں تم سے پیارو نہ کیں کی بات ہے تم خود بچارو اگر کھینچے کوئی کہنے کی تلوار تو اس سے کب ملے بچھڑا ہوا یار غرض پند و نصیحت ہے نہ کچھ اور خدا کے واسطے تم خود کرو غور کہ گر ایشر نہیں رکھتا یہ طاقت کہ اک جاں بھی کرے پیدا بقدرت تو پھر اس پر خدائی کا گماں کیا وگر قدرت بھی پھر وہ ناتواں کیا کہاں کرتی ہے عقل اس کو گوارا کہ بن قدرت ہوا وگر تم خالق اس کو مانتے ہو یہ جگت سارا تو پھر اب ناتواں کیوں جانتے ہو بھلا تم خود کہو انصاف سے صاف کہ ایشر کے یہی لائق ہیں اوصاف کہ کر سکتا نہیں اک جاں کو پیدا نہ اک ذرہ ہوا اس سے ہویدا نہ اُن بن چل سکے اس کی خُدائی نہ اُن بن کر سکے زور آزمائی نظر سے اس کے ہوں محجوب و مکتوم نہ ہو تعداد تک بھی اس کو معلوم معاذ اللہ ! یہ سب باطل گماں ہے وہ خود ایشر نہیں جو ناتواں ہے اگر بھولے رہے اس سے کوئی جاں تو پھر ہو جاوے اس کا ملک ویراں