دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 101

۱۰۱ پیارو! یہ روا ہرگز نہیں ہے خدا وہ ہے جو رب العالمیں ہے یہ ایسی بات منہ سے مت نکالو خطا کرتے ہو ہوش اپنے سنبھالو تو ہر ذرے کا وہ مالک کہاں ہو اگر ہر ذرہ اُس بن خود عیاں ہو اگر خالق نہیں روحوں کی وہ ذات تو پھر کاہے کی ہے قادر وہ ہیہات اگر ہے دیں یہی پھر گھر کیا ہے اگر اس بن بھی ہو سکتی ہیں اشیاء تو پھر اُس ذات کی حاجت رہی کیا خدا پر عجز و نقصاں کب روا ہے اگر سب شئے نہیں اُس نے بنائی تو بس پھر ہو چکی اُس سے خدائی اگر اس میں بنانے کا نہیں زور تو پھر اتنا خُدائی کا ہے کیوں شور وہ ناکامل خدا ہو گا کہاں سے کہ عاجز ہو بنانے جسم و جاں سے سے ذرا سوچو کہ وہ کیسا خدا ہے کہ جس سے جگت رُوحوں کا جُدا ہے سدا رہتا ہے ان روحوں کا محتاج انہیں سب کے سہارے پر کرے راج بھلا اس کو خدا کہنا ہی کیا بات جسے حاجت رہے غیروں کی دن رات جب اس نے ان کی گنتی بھی نہ جانی کہاں من من کا ہو انتر گیانی اگر آگے کو پیدائش ہے سب بند تو پھر سوچو ذرا ہو کے خردمند کہ جس دم پا گئی مکتی ہر اک جاں تو پھر کیا رہ گیا ایشر کا ساماں کہاں سے لائے گا وہ دوسری روح که تا قدرت کا ہو پھر باب مفتوح غرض جب سب نے اس مکتی کو پایا تو ایشر کی ہوئی سب ختم مایا