دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 99

۹۹ مجھ کو ہو کیوں ستاتے سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے دور از بلا یہی ہے جس کی دعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے اچھا نہیں ستانا پاکوں کا دِل دُکھانا گستاخ ہوتے جانا اس کی جزا یہی ہے اس دیں کی شان و شوکت یا رب مجھے دکھا دے سب جھوٹے دیں مٹا دے میری دعا یہی ہے کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اِس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے لے پنڈت لیکھ رام قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ ۴۸ ۔ مطبوعہ ۱۹۰۷ء