دُرِّثمین اُردو — Page 98
۹۸ لعل یمن بھی دیکھے دُر عدن بھی دیکھے سب جوہروں کو دیکھا دِل میں جچا یہی ہے انکار کر کے اس سے پچھتاؤ گے بہت تم بنتا ہے جس سے سونا وہ کیمیا یہی ہے پر آریوں کی آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ایسی وہ گالیوں پہ اُترے دل میں پڑا یہی ہے بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زباں ہے جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے گو ہیں بہت درندے انسان کی پوستیں میں پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا یہی ہے رکس دیں پہ ناز اُن کو جو ولید کے ہیں حامی مذہب جو پھل سے خالی وہ کھوکھلا یہی ہے اے آریو! یہ کیا ہے کیوں دل بگڑ گیا ہے ان شوخیوں کو چھوڑو راہِ حیا یہی ہے لے یادر ہے کہ وید پر ہمارا کوئی حملہ نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اسکی تفسیر میں کیا کیا تصرف کئے گئے آریہ ورت کے صدہا مذہب اپنے عقائد کا ویدوں پر ہی انحصار رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور با ہم اُن کا سخت اختلاف ہے۔ پس ہم اسجگہ وید سے مراد صرف آریہ سماج والوں کی شائع کردہ تعلیمیں اور اصول لیتے ہیں۔ منہ