دُرِّثمین اُردو — Page 97
۹۷ تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب دوری طاعت بھی ہے ادھوری ہم پر بلا یہی ہے مجھ میں وفا ہے پیارے سچے ہیں عہد سارے ہم جا پڑے کنارے جائے بگا یہی ہے ہم نے نہ عہد پالا یاری میں رخنہ ڈالا ۔ پر تو ہے فضل والا ہم پر کھلا یہی ہے اے میرے دل کے درماں ہجراں ہے تیرا سوزاں کہتے ہیں جس کو دوزخ وہ جاں گزا یہی ہے اک دیں کی آفتوں کا غم کھا گیا ہے مجھ کو سینہ پر دشمنوں کے پتھر پڑا یہی ہے کیونکر تبہ وہ ہووے کیونکر فنا وہ ہووے ظالم جو حق کا دشمن وہ سوچتا یہی ہے ایسا زمانہ آیا جس نے غضب ہے ڈھایا جو پیستی ہے دیں کو وہ آسیا یہی ہے شادابی و لطافت اس دیں کی کیا کہوں میں سب خشک ہو گئے ہیں پھولا پھلا یہی ہے آنکھیں ہر ایک دیں کی بے نور ہم نے پائیں سُرمہ سے معرفت کے اِک سُرمہ سا یہی ہے