دُرِّثمین اُردو — Page 96
۹۶ اس عشق میں مصائب سو سو ہیں ہر قدم میں پر کیا کروں کہ اس نے مجھ کو دیا یہی ہے حرف وفا نہ چھوڑوں اس عہد کو نہ توڑوں اس دلبر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے جب سے ملا وہ دلبر دشمن ہیں میرے گھر گھر دل ہو گئے ہیں پتھر قدر و قضا یہی ہے مجھ کو ہیں وہ ڈراتے پھر پھر کے در پہ آتے تیغ و تبر دکھاتے ہر سُو ہوا یہی ہے دلبر کی رہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے ہشیار ساری دنیا اک باؤلا یہی ہے اس رہ میں اپنے قصے تم کو میں کیا سُناؤں دُکھ درد کے ہیں جھگڑے سب ماجرا یہی ہے دل کر کے پارہ پارہ چاہوں میں اِک نظارہ دیوانه مت کہو تم عقل رسا یہی ہے اے میرے یار جانی! کر خود ہی مہربانی مت کہہ کہ لَنْ تَرَانِی تجھ سے رجا یہی ہے فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم میں جاں کنی ہے عاشق جہاں پہ مرتے وہ کربلا یہی ہے