Barahin-e-Ahmadiyya Part V — Page 434
BARĀHIN-E-AHMADIYYA - PART FIVE اغرتك دنياك الدنية زينةً حذار من الموت الذي هو يبدر کیا تیری ذلیل دنیا نے تجھے مغرور کر دیا۔ اس موت سے ڈر جو یکدفعہ تیرے پر وارد ہو گی Has your abject worldly life made you arrogant? Be mindful of the death that will suddenly pounce upon you. ترید هواني كل يوم وليلة وتبغى لوجه مشرق لو يُغبّر ہر ایک دن اور رات تو میری ذلت چاہتا ہے۔ اور روشن مُنہ کے لئے تو چاہتا ہے، کہ وہ غبار آلودہ ہو جائے You desire to humiliate me every single day and night; You want my luminous face to be covered in dust. وانا وأنتم لا نغيب من الذي يَرَى كلما ننوى وما نتصوّر اور ہم اور تم اس ذات سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ جو ہمارے وہ تمام خیالات دیکھتا ہے جو ہمارے دل میں ہیں۔ Neither I, nor you, are hidden from that Being, Who sees all of our thoughts that are in our hearts. وما المرء إلا كالحباب وجوده فان شئتَ نَم فالموت كالصبح يسفر اور انسان تو محض بلبلہ کی طرح اس کا وجود ہے۔ پس اگر چاہے تو سو جا پس موت صبح کی طرح ظاہر ہو جائے گی Man's existence is but like a bubble; Slumber on if you want, for death will come to you as sure as the dawn. لدى النخل والزمان تنقف حنظلا فاي غبي منك في الدهر اكبر تو کھجور اور انار کو چھوڑ کر حنظل کو توڑ رہا ہے ۔ پس تجھ سے زیادہ بدبخت اور کون ہو گا Ignoring dates and pomegranates, you pluck the bitter colocynth; Who then could be more unfortunate than you! 434