Barahin-e-Ahmadiyya Part V

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 630

Barahin-e-Ahmadiyya Part V — Page 420

420 BARĀHIN-E-AHMADIYYA - PART FIVE واني نسيت الهم والغم والبلا 3 اذا جاءني نصر ووحى يُبشر اور میں نے ھم اور غم اور بلا کو بھلا دیا۔ جب اس کی مدد اور وحی بشارت دینے والی میرے پاس آئی I forget all grief, sorrow, and affliction When His help and revelation bearing glad tidings comes to me. وانا بفضل الله نطوى شعابنا على هاجرات مثل ريح تُصَرْصِرُ اور ہم خدا کے فضل سے اپنی راہ طے کر رہے ہیں۔ ایسی اونٹنیوں پر جو تیز ہوا کی طرح چلتی ہیں And we by the grace of God-are advancing forth on our path, Riding she-camels that swiftly glide forward like the blowing breeze. لهن قوائم كالجبال كأنها سفائن في بحر المعارف تمخر ان اونٹنیوں کے پیر پہاڑوں کی طرح ہیں گویا وہ کشتیاں ہیں جو معرفت کے دریا میں تیرتی ہیں These she-camels have feet like mountains, As if they are boats sailing in the river of cognizance. تدلّت علينا الشمس شمس المعارف فكنا بضوء الشمس نمشي وننظر معارف کا سورج ہماری طرف جھک گیا۔ پس ہم سورج کی روشنی کے ساتھ چلتے اور دیکھتے ہیں The Sun of Cognizance has turned towards us, So we proceed forth, seeing with the light of this Sun. رأينا مرادات تعسر نيلها ترجز غيث بعد مكث يحذِّرُ ہم نے وہ مرادیں پائیں جن کا پانا مشکل تھا۔ آہستہ آہستہ بادل نے ہماری طرف حرکت کی بعد اُس دیر کے جو ڈراتی تھی We attained desires that were difficult to achieve- The cloud gradually moving towards us after a fearful delay.