Barahin-e-Ahmadiyya Part V — Page 418
BARĀHIN-E-AHMADIYYA - PART FIVE وما جئتكم الا من الله ذي العُلى وما قلت الا كلما كنتُ أؤمرُ اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اپنی طرف سے نہیں۔ اور میں نے وہی کہا ہے جو خدا نے فرمایا I have come from God Almighty-not of my own accord- And I have only said what God has commanded. وان شاء لم أبعث مقام ابن مريم ما يُحيّر والله في اقداره اور اگر خدا چاہتا تو میں ابن مریم کی جگہ مبعوث نہ ہوتا۔ اور خدا کے اپنے قضاء و قدر میں ایسے ایسے امور ہیں جو حیران کر دیتے ہیں Had God so willed, I would not have been appointed in the position of Ibn Maryam [the Son of Mary]; The matters that God has decreed are such that they leave us astonished. ولا يُسئل الرحمن عن امر قضى ويُسئل قوم ضل عما تخيروا اور خدا اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا۔ اور وہ قوم جو گمراہ ہو جائے وہ پوچھی جاتی ہے، کہ کیوں ایسا کام کیا And God is not questioned about what He does, But a people who go astray are held to account why they did so. كذلك عادته جرت في قضائه فيختار ما يُعمى عيونا وَيَأْطَرُ اسی طرح اس کی عادت اپنے ارادہ میں جاری ہے۔ پس وہ ایسے امور اختیار کرتا ہے، جن سے آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اور ٹیڑھی کر دیتا ہے Such is His eternal practice with regard to His will; He decrees such orders from which eyes are blinded and twisted. 418