Barahin-e-Ahmadiyya Part V — Page 417
APPENDIX TO BARĀHIN-E-AHMADIYYA - PART FIVE 417 و نحن علمنا المنتهى من ولينا فقرت به عَيْنِي وكنت أذكرُ اور تیرا انجام کام مجھے اپنے دوست خدا تعالیٰ سے معلوم ہوا۔ پس اس سے میری آنکھ کو ٹھنڈک پہنچی اور میں یاد دلاتا رہا The end of your affair was revealed to me by my Friend, God Almighty. It brought solace to my heart and I am reminded about it. وَوَالله لا انسى زمان تعلّق وليس فؤادى مثل ارض تحجر اور بخدا میں تعلق کے زمانہ کو بھولتا نہیں۔ اور میرا دل ایسا نہیں جیسا کہ زمین پتھریلی ہوتی ہے By God, I do not forget our past relationship; My heart is not like stony soil. ازی غیظ نفسی لاثبات لغليه كموج من الرجاف يعلو ويحدرُ اور میں اپنے غصہ کو دیکھتا ہوں کہ اس کو کچھ ثبات نہیں۔ وہ دریا کی اس موج کی طرح ہے، جو ایک دم میں چڑھتی اور اُترتی ہے I find no permanence in my displeasure- Like a wave in a sea, it subsides as suddenly as it rises. اذا احسن الانسان بعد اساءة فننسى الاساءة والمحاسن تذكر جب انسان بدی کے بعد نیکی کرے۔ ۔ پس ہم بدی کو بھلا دیتے ہیں اور نیکیوں کو یاد رکھتے ہیں When a person replaces evil with good, I forget his evil and remember his good deeds. وان قلتُ مُرًا في كلام لطالما رأيتُ أَذًى منكم وقلبي مكسر اور اگر میں نے کسی کلام میں کچھ تلخ کہا ہے۔ تو میں ایک زمانہ دراز تم سے دُکھ اٹھاتا رہا اور دل میرا چور چور ہے And if I had said some harsh words in any of my discourses- For a long time I had suffered at your hands and I am broken-hearted.