القصائد الاحمدیہ — Page 77
۹ القصيدة الرابعة چوتھا قصیدہ الَا أَيُّهَا الْوَاشِي اِلَامَ تُكَذِّبُ وَتُكْفِرُ مَنْ هُوَ مُؤْمِنُ وَ تُؤَنِّبُ اے دروغ گو! تو کب تک تکذیب اور تکفیر کرتا رہے گا اس کی جو مومن ہے اور اسے دھمکی آمیز ملامت کرتا رہے گا۔ وَالَيْتُ أَنِّي مُسْلِمٌ ثُمَّ تُكْفِرُ فَأَيْنَ الْحَيَا أَنْتَ امْرُؤٌ أَوْ عَقْرَبُ اور میں قسم کھا چکا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو پھر بھی ( مجھے ) کافر کہتا ہے۔ حیا کہاں گئی ؟ تو آدمی ۔ دمی ہے یا بچھو ۔ ا لَا اِنَّنِي تِبْرٌ وَ أَنْتَ مُذَهَّبٌ أَلَا إِنَّنِي أَسَدٌ وَإِنَّكَ تَعْلَبُ سن لے! کہ میں تو خالص سونا ہوں اور تجھ پر سونے کا ملمع کیا گیا ہے۔ سن لے! کہ میں تو شیر ہوں اور تو یقیناً لومڑی ہے۔ أَلَا إِنَّنِي فِي كُلِّ حَرْبٍ غَالِبٌ فَكِدْنِي بِمَا زَوَّرْتَ وَالْحَقُّ يَغْلِبُ سن لے! کہ یقیناً میں ہر لڑائی میں غلبہ پانے والا ہوں سو تو اپنے جھوٹ کے ساتھ میرے متعلق تدبیر کرتارہ اور (یا درکھ کہ حق ہی غالب ہوگا۔ وَ بَشَّرَنِي رَبِّي وَقَالَ مُبَشِّرًا سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيدِ وَالْعِيدُ أَقْرَبُ اور میرے رب نے مجھے بشارت دی ہے اور بشارت دیتے ہوئے کہا ہے۔ تو عید کے دن کو جان لے گا اس حال میں کہ (مسلمانوں کی عام) عید ( اسکے ) قریب تر ہو گی ۔ وَ نَعَمَنِى رَبِّي فَكَيْفَ اَرُدُّهُ وَهَذَا عَطَاءُ اللَّهِ وَالْخَلْقُ يَعْجَبُ اور خدا نے مجھ پر انعام کیا ہے تو میں اسے کیسے رڈ کر دوں۔ اور یہ تو اللہ کی عطا ہے اور لوگ ( اس پر ) تعجب کر رہے ہیں۔ وَ سَوْفَ تَرى أَنِّي صَدُوقٌ مُؤَيَّدٌ وَ لَسْتُ بِفَضْلِ اللَّهِ مَا أَنْتَ تَحْسَبُ اور تو جلد دیکھ لے گا کہ یقیناً میں سچا ( اور ) تائید یافتہ ہوں۔ اور خدا کے فضل سے میں ایسا نہیں جیسا کہ تو خیال کر رہا ہے۔