القصائد الاحمدیہ — Page 375
۳۷۵ تُبْ مِنْ كَلَامٍ قُلْتَ وَاحْفِدْ تَائِبًا وَالْعَفْوُ خُلْقِي أَيُّهَا الْمُتَوَقِّمُ جو کچھ تو نے کہا ہے اُس سے توبہ کر اور میری طرف دوڑ اور بخشنا میرا خلق ہے۔اے وہموں میں گرفتار۔ إِنْ كُنْتَ تَتَمَنَّى الْوَغَا فَنُحَارِبُ بَارِزُ فَإِنِّي حَاضِرٌ مُتَخَيِّمُ اگر تو لڑنے کو چاہتا ہے پس ہم لڑیں گے باہر میدان میں آ کہ میں حاضر ہوں خیمہ لگائے ہوئے ۔ نُطْقِي كَسَيْفٍ قَاطِعٍ يُرْدِى الْعِدَا قَوْلِي كَعَالِيَةِ الْقَنَا أَوْ لَهُذَمُ میر انطق تلوار کاٹنے والی کے مانند ہے جو دشمنوں کو ہلاک کرتی ہے۔ بات میری نیزہ کی نوک کی طرح ہے یا لہذم کی طرح ہے۔ كَمْ مِنْ قُلُوبِ قَدْ شَقَقْتُ غِلَافَهَا كَمْ مِنْ صُدُورٍ قَدْ كَلَمْتُ وَأَكْلِمُ بہت دل ہیں جن کے غلاف میں نے پھاڑ دیئے ، بہت سینے ہیں جو میں نے مجروح کئے اور کرتا ہوں ۔ حَارَبَتُ كُلَّ مُكَذِّبٍ وَبِاخِرٍ لِلْحَرْبِ دَائِرَةٌ عَلَيْكَ فَتَعْلَمُ میں نے ہر ایک مکتب سے لڑائی کی ہے ۔ اب آخری نوبت میں لڑائی کے چکر میں تو آ گیا۔ پس عنقریب جان لے گا۔ لِي فِيكَ مِنْ رَّبِّ قَدِيرِ ايَةٌ إِنْ كُنْتَ لَا تَدْرِي فَإِنَّا نَعْلَمُ تجھ میں میرے خدا کی طرف سے ایک نشان ہے اگر تو نہیں جانتا تو ہم تجھے جانتے ہیں۔ قَدْ قُلْتَ دَجَّالٌ وَقُلْتَ قَدِ افْتَرى تَهْذِى وَفِي صَفِ الْوَغَى تَتَجَشَّمُ تو نے کہا کہ شخص دجال ہے اور خدا تعالیٰ پر افترا کرتا ہے تو بکواس کر رہا ہے اور لڑائی میں تکلیف کر رہا ہے۔ وَالْحُكْمُ حُكْمُ اللَّهِ يَا عَبْدَ الْهَوَى يُبْدِيكَ يَوْمًا مَا تُسِرُّ وَ تَكْتُمُ اور حکم خدا کا حکم ہے اے حرص کے بندے! ایک دن وہ تجھے جتلا دیگا جو کچھ تو پوشیدہ کرتا ہے۔ الْحَقُّ دِرْعٌ عَاصِمٌ فَيَصُونَنِي فَاحْذَرُ فَإِنِّي فَارِسٌ مُسْتَلْحِمُ حق ایک سچائی والی درع ہے جو مجھے بچائے گی پس خوف کر کہ میں ایک سوار پیچھا کرنے والا ہوں ۔ (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲ صفحه ۳۶۱ تا ۳۶۴)