القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 345

۳۴۵ یک وَذَلِكَ بُهْتَانٌ وَ تَوْهِينُ شَأْنِهِمُ لَكَ الْوَيْلُ يَاغُولُ الْفَلَا كَيْفَ تَجْسُرُ اور یہ بہتان ہے اور انبیاء علیہم السلام کی کسر شان ہے۔ اے جنگلوں کے غول ! تجھ پر ویل! یہ تو کیا دلیری کر رہا ہے۔ طَلَبْتُمْ فَلَاحًا مِّنْ قَتِيلٍ بِخَيْبَةٍ فَخَيَّبَكُمُ رَبِّ غَيُورٌ مُّتَبِّرُ تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا پس تم کو خدا نے جو غیور ہے ہر ایک مراد سے نومید کیا۔ وہ خدا جو ہلاک کرنے والا ہے۔ وَوَاللَّهِ لَيْسَتْ فِيهِ مِنّى زِيَادَةٌ وَعِنْدِى شَهَادَاتٌ مِّنَ اللَّهِ فَانظُرُوا اور بخدا اسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں۔ اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں ۔ پس تم دیکھ لو۔ وَإِنِّي قَتِيلُ الحِبِّ لَكِنْ حُسَيْنُكُمْ قَتِيلُ الْعِدَا فَالْفَرْقُ أَجْلَى وَأَظْهَرُ اور میں خدا کا گشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا گشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔ حَدَرْنَا سَفَائِنَكُمْ إِلَى اَسْفَلِ الثَّرَى وَأَوْثَانَكُمْ فِي كُلِّ وَقْتِ نُكَسِّرُ ہم نے تمہاری کشتیاں تحت الثری کی طرف اتار دیں۔ اور تمہارے بت ہر وقت توڑ رہے ہیں۔ وَوَاللَّهِ إِنَّ الدَّهْرَ فِي كُلِّ وَقُتِهِ نَصِيحٌ لَكُمْ فِي نُصْحِهِ لَا يُقَصِّرُ اور بخدا کہ زمانہ اپنے ہر ایک وقت میں تمہیں نصیحت کر رہا ہے اور نصیحت میں کچھ قصور نہیں کرتا۔ تَنَاهَى لِسَانُ النَّاسِ عَنْ دَابِ فُحْشِهِمْ وَ مِقْوَلُكُمْ يَجْرِي وَلَا يَتَحَسَّرُ تمام لوگوں نے بدزبانی کی عادت چھوڑ دی۔ اور تمہاری زبان اب تک لعنت بازی پر جاری ہورہی ہے اور نہیں تھکتی۔ اَشَعُتُمُ طَرِيقَ اللَّعْنِ فِي اَهْلِ سُنَّةٍ فَاجْرَوْا طَرِيقَتَكُمْ فَإِنْ شِئْتُمُ انْظُرُوا تم نے لعنت بازی کے طریقوں کو اہل سنت والجماعت میں شائع کر دیا۔ پس انہوں نے بھی یہ طریق جاری کر دیا۔ اگر چاہو تو دیکھ لو۔ فَيَا لَيْتَ مِتُّمْ قَبْلَ تِلْكَ الطَّرَائِقِ وَلَمْ يَكُ دِينُ اللَّهِ مِنْكُمْ يُخَسَّرُ پس کاش ! تم ان تمام طریقوں سے پہلے ہی مر جاتے ۔ اور خدا کا دین تمہارے سبب سے تباہ نہ ہوتا۔ جَعَلْتُمُ حُسَيْنَا أَفْضَلَ الرُّسُلِ كُلِّهِمْ وَجُزْتُمْ حُدُودَ الصِّدْقِ وَاللَّهُ يَنظُرُ تم نے حسین کو تمام انبیاء سے افضل ٹھہرادیا۔ اور سچائی کی حدوں سے آگے گزر گئے (اور اللہ دیکھ رہا ہے )۔