القصائد الاحمدیہ — Page 346
۳۴۶ وَعِنْدَ النَّوَائِبِ وَالاذِى تَذْكُرُونَهُ كَأَنَّ حُسَيْنًا رَبُّكُمْ يَا مُزَوِّرُ اور مصیبتوں اور دکھوں کے وقت تم اسی کو یاد کرتے ہو۔ گویا حسین تمہارا رب ہے۔اے بد بخت جھوٹ بولنے والے! وَخَرَّتْ لَهُ أَحْبَارُكُمْ مِثْلَ سَاجِدٍ فَمَا جُرُمُ قَوْمٍ أَشْرَكُوا أَوْ تَنَصَّرُوا اور تمہارے علماء سجدہ کرنے والوں کی طرح اس کے آگے گر گئے ۔ پس اب مشرکوں یا نصرانیوں کا کیا گناہ ہے۔ نَسِيتُمْ جَلَالَ اللَّهِ وَالْمَجْدَ وَالْعُلى وَمَاوِرُدُكُمْ إِلَّا حُسَيْنُ اَتُنْكِرُ تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا۔ اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے؟ فَهَذَا عَلَى الْإِسْلَامِ إِحْدَى الْمَصَائِبِ لَدَى نَفَحَاتِ الْمِسْكِ قَذْرٌ مُّقَنْطَرُ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے ۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔ وَإِنْ كَانَ هَذَا الشَّرْكُ فِى الدِّيْنِ جَائِزَا فَبِاللَّغْوِ رُسُلُ اللَّهِ فِي النَّاسِ بُعْثِرُوا اور اگر شرک دین میں جائز ہے۔ پس خدا کے پیغمبر بیہودہ طور پر لوگوں میں بھیجے گئے ۔ وَأَيُّ صَلَاحٍ سَاقَ جُنُدُ نَبِيِّنَا إِلَى حَرْبِ حِزْبِ الْمُشْرِكِينَ فَدَمَّرُوا اور کیا غرض تھی کہ ہمارے نبی کا لشکر مقابلہ کے لئے چلا گیا۔ مشرکوں کی لڑائی کے مقابل پر پس ان کو ہلاک کیا۔ وَشَدُّوا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَرٌّ بِمَوْطِنٍ فَصَارَ مِنَ الْقَتْلَى بَرَانٌ مُعَصْفَرُ اور اپنی کوششوں سے خوب ان مشرکوں کو تباہ کیا لڑائی کے میدان میں ۔ یہاں تک کہ اُن گشتوں سے میدان جنگ سرخ ہو گیا۔ وَكَمْ مِّنْ زِرَاعَاتِ أَبِيدَتْ وَمِثْلُهَا بُيُوتُ مَتَاةٌ وَ طِرُفٌ مُّصَدِّرُ اور بہت سی کھیتیاں تباہ کی گئیں اور گھر ویران کئے گئے اور وہ گھوڑے جو سب سے آگے نکل جاتے تھے مارے گئے ۔ وَاحْرِقَ مَالُ الْمُشْرِكِينَ وَحُصِّلَتْ مَغَانِمُ شَتَّى وَالْمَتَاعُ الْمُوَقَّرُ اور مشرکوں کا گھر بار جلایا گیا۔ اور بہت سی غنیمتیں اور بہت سے متاع حاصل کئے گئے ۔ بِبَدْرٍ وَاحِدٍ قَامَ نَوْعُ قِيَامَةٍ وَكَانَ الصَّحَابَةُ كَالًا فَانِيْنِ كُسِّرُوا بدر میں اور اُحد کی لڑائی میں ایک قیامت برپاتھی۔ اور اصحاب رضی اللہ عنہم شاخوں کی طرح توڑے گئے۔