القصائد الاحمدیہ — Page 323
۳۲۳ وَمَا الْبِرُّ إِلَّا تَرْكُ بُخْلٍ مِّنَ التَّقَى وَمَا الْبُخْلُ إِلَّا رَدُّ مَنْ يَتَبَقَّرُ ور نیکی بر اسکے کوئی چیز نہیں کہ تقوی کی رو سے بل کو دور کر دیا جائے۔ اور نکل بجز اس کے کچھ نہیں کہ جسکا علم وسیع اور کامل ہے اور اپنے سے بہتر ہے اس کوقبول نہ کیا جائے۔ راہ وَ قَالُوا إِلَى الْمَوْعُودِ لَيْسَ بِحَاجَةٍ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَهْدِى وَيُخْبِرُ اور انہوں نے کہا کہ مسیح موعود کی طرف کچھ حاجت نہیں۔ کیونکہ اللہ کی کتاب ہدایت دیتی اور خبر دیتی ہے۔ وَمَاهِيَ إِلَّا بِالْغَيُورِ دُعَابَةٌ فَيَا عَجَبًا مِّنْ فِطْرَةٍ تَتَهَوَّرُ اور یہ تو خدائے غیور کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا ہے۔ پس ایسی بیباک فطرتوں پر تعجب آتا ہے۔ وَقَدْ جَاءَ قَوْلُ اللهِ بِالرُّسُلِ تَوْأَمًا وَمِنْ دُونِهِمْ فَهُمُ الْهُدَى مُتَعَسِّرُ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ خدا کا کلام اور رسول باہم تو ام ہیں۔ اور ان کے بغیر خدا کے کلام کا سمجھنا مشکل ہے۔ فَإِنَّ ظُبَى الأَسْيَافِ تَحْتَاجُ دَائِمًا إِلَى سَاعِدِ يُجْرِي الدِّمَاءَ وَيُنْدِرُ کیونکہ تلواروں کی دھار ہمیشہ ایسے بازو کی محتاج ہے۔ جو خون کو جاری کرتا اور سر کو بدن سے الگ کر دیتا ہے۔ بِعَضُبِ رَّقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ هَزِيمَةٌ إِذَا نَاشَهُ طِفْلٌ ضَعِيفٌ مُّحَقَّرُ تلوار گو بار یک دھاریں رکھتی ہو مگر تب بھی شکست ہوگی ۔ جبکہ اس کو کمزور اور حقیر بچہ ہاتھ میں پکڑے گا۔ وَأَمَّا إِذَا أَخَذَ الْكَمِيُّ مُفَقِّرًا كَفَى الْعَوْدَ مِنْهُ الْبَدْءُ ضَرْبًا وَ يَنْحَرُ لیکن جب ایک بہادر آدمی ایک سخت تلوار کو پکڑے تو اس کا پہلا وار دوسرے وار کی حاجت نہیں رکھے گا اور ذبح کر دیگا۔ إِذَا قَلَّ تَقْوَى الْمَرْءِ قَلَّ اقْتِبَاسُهُ مِنَ الْوَحْيِ كَالسَّلْحِ الَّذِي لَا يُنَوِّرُ جب انسان کی تقوی کم ہو جاتی ہے تو خدا کی کلام سے استنباط اور اقتباس اس کا بھی کم ہو جاتا ہے جیسا کہ مہینہ کی آخری رات میں کچھ روشنی نہیں رہتی۔ فَيَا أَسَفَا أَيْنَ التَّقَاةُ وَأَرْضُهَا وَإِنِّي أَرَى فِسْقًا عَلَى الْفِسْقِ يَظْهَرُ پس افسوس ! کہاں ہے تقوی اور کہاں ہے زمین اس کی۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ فسق پر فسق ظاہر ہورہا ہے۔ أرَى ظُلُمَاتٍ لَّيُتَنِي مِتُّ قَبْلَهَا وَ ذُقْتُ كُؤُوسَ الْمَوْتِ أَوْ كُنتُ انْصَرُ اور میں وہ تاریکیاں دیکھتا ہوں کہ کاش میں ان سے پہلے مر جاتا۔ اور موت کے پیالے چکھ لیتا اور یا مد د دیا جاتا۔